Featured Post

Wake-up Call to Muslims , Scholars & Humanity

Presently the societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism, ignorance and intolera...

25.3.13

Hadith an other perspective

احادیث کی حیثیت

"احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں۔جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ گمانِ حجت ہے نہ کہ علمِ یقین۔اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس خطرہ میں ڈالنا ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جو اُمور اس کے دین میں اتنے اہم ہوں کہ ان سے کفر و ایمان کا فرق واقع ہوتا ہو ، اُنہیں صرف چند انسانوں کی روایت پر منحضر کر دیا جائے"(رسائل و مسائل ، ابو الاعلیٰ مودودی، صفحہ 67 )

۔ یہ مواد اس حد تک قابلِ اعتماد ضرور ہے کہ سنت نبویﷺ اور آثارِ صحابہ رضوان اللہ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اسکا مناسب خیال کیا جائے۔ مگر اس قابل نہیں کہ بالکل اسی پر اعتبار کرلیا جائے (تفہیمات، حصہ اول، صفحہ 
322، ابو الاعلیٰ مودودی)۔

یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کہ کتبِ احادیث میں جتنی احادیث درج  ہیں  ان کے 
مضامین کو جوں کا توں بلا تنقید قبول کر لینا چاہئے۔صحیح احادیث   کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک وہ جن کے احکام میں ردّوبدل نہیں ہوسکتا، اور دوسری وہ جن میں اجتہاد کیا جاسکتا ہے۔

اب رہ گئےاحکام، تو قرآن میں ان کے متعلق زیادہ تر کلّی قوانین بیان کئے گئے ہیں 
اور بیشتر امور میں تفصیلات کو چھوڑا گیا ہے۔نبی کریمﷺ نے عملاً ان احکام کو زندگی کے معاملات میں جاری فرمایا اور اپنے عمل اور قول سے ان کی تفصیلات ظاہر فرمائیں۔ان تفصیلات میں بعض ایسی ہیں جن میں ہمارے اجتہاد کو کوئی دخل نہیں۔ہم پر لازم ہے کہ جیسا عمل حضورﷺ سے ثابت ہے، اس کی پیروی کریں۔مثلاً عبادات کے احکام۔اور بعض تفاصیل ایسی ہیں کہ ان سے ہم اصول اخذ کرکے اپنے اجتہاد سے فروغ مستنبط کر سکتے ہیں۔مثلاً عہدِ نبوی ﷺ کے قوانینِ مدنی"۔ (تفہیمات، حصہ اول، ابو الاعلیٰ مودودی، صفحہ 332 اور 333)۔

" یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ شارع نے غائت درجہ کی حکمت اور کمال درجہ کے علم سے کام لے کر اپنے احکام کی بجاآوری کیلئے زیادہ تر ایسی ہی صورتیں تجویز کی ہیں جو تمام زمانوں اور تمام حالات میں اس مقصد کو پورا کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود بکثرت جزئیات ایسے بھی ہیں جن میں تغیرِ حالات کے لحاظ سے احکام میں تغیر ہونا ضروری ہے۔جو حالات عہدِ رسالت ﷺ اور عہدصحابہ رضوان اللہ میں عرب اور دنیائے اسلام کے تھے، لازم نہیں کہ بعینہِ وہی حالات ہر زمانے اور ہر ملک کے ہوں۔لہٰذا احکامِ اسلامی پر عمل کرنے کی جو صورتیں ان حالات میں اختیار کی گئی تھیں، ان کو ہو بہو، تمام زمانوں میں، تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح کے لحاظ سے ان جزئیات میں کسی قسم کا ردّ وبدل نہ کرنا، ایک طرح کی رسم پرستی ہے جس کو روحِ اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں۔۔۔۔۔پس معلوم ہوا کہ جزئیات میں دلالۃ انص اور اشارۃ النص تو ایک طرف، صراحۃ انص کی پیروی بھی تفقہ کے بغیر درست نہیں ہوتی۔اور تفقہ کا اقتضایہ ہے کہ انسان ہر مسئلہ میں شارع کے مقاصد و مصالح پر نظر رکھے اور انہی لحاظ سے جزئیات میں تغیر ِ احوال کے ساتھ ایسا تغیر کرتا رہے جو شارع کے اصولِ تشریع پر مبنی اور اس کے طرزِ عمل سے اقرب ہو۔(تفہیمات حصہ دوم،ابوالاعلیٰ مودودی، صفحہ 327 اور 328)۔

یہ مسلک یا عقیدہ نیا نہیں، بلکہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔چنانچہ علامہ اقبالؒ نے خطبۂ ششم میں کہا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ محدت دہلوی کا یہی مسلک تھا اور اسی کے مؤید خود علامہ اقبالؒ تھے۔وہ اس باب میں لکھتے ہیں کہ :

"احادیث کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جن کی حیثیت قانونی ہے ، اور دوسری وہ جو قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔اول الذکر کے بارے میں ایک بڑا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک ان رسوم و رواج پر مشتمل ہیں جو اسلام سے پہلےعرب میں رائج تھے اور جن میں بعض کو رسول اللہ ﷺ نے علیٰ حالہِ رکھا اور بعض میں ترمیم فرما دی۔آج یہ مشکل ہے کہ ان چیزوں کو پورے طور پر معلوم کیا جاسکے کیوں کہ ہمارے متقدمین نے اپنی تصانیف میں زمانۂ قبل از اسلام کے رسوم  و رواج کا زیادہ ذکر نہیں کیا، نہ ہی یہ معلوم کرنا ممکن ہے کہ جن رسوم و رواج کو رسول اللہ ﷺ نے علی حالہِ رکھا، خواہ اُن کے لئے واضح طور پر حکم دیاہو یا ویسے ہی اُن کا استصواب فرما دیا ہو، اُنہیں ہمیشہ کیلئے نافذ العمل رکھنا مقصود تھا۔اس موضوع پر شاہ ولی اللہؒ نے بڑی عمدہ بحث کی ہے جس کا خلاصہ میں یہاں بیان کرتا ہوں

۔شاہ صاحبؒ نے کہا ہے  کہ پیغمبرانہ طریقِ تعلیم یہ ہوتا ہے کہ رسولؑ کے احکام ان لوگوں کے عادات و اطوار اور رسوم و رواج کو خاص طور پر ملحوظ رکھتے ہیں جو اس کے اولین مخاطب ہوتے ہیں۔پیغمبر کی تعلیم کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ عالمگیر اصول عطا کر دے لیکن نہ  تو مختلف قوموں کیلئے مختلف اصول دیئے جاسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں بغیر کسی اصول کے چھوڑا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مسلکِ زندگی کیلئے جس قسم کے اصول چاہیں ، وضع کر لیں۔لہٰذا پیغمبر کا طریق یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک خاص قوم کو تیار کرتا ہے اور اُنہیں ایک عالمگیر شریعت کیلئے بطور خمیر استعمال کرتا ہے اس مقصد کیلئے وہ اصولوں پر زور دیتا ہے جو تمام نوعِ انسان کی معاشرتی زندگی کو اپنے سامنے رکھتے ہیں۔لیکن ان اصولوں کا نفاذ اس قوم کے عادات و خصائل کی روشنی میں کرتا ہے جو اُس وقت اُس کے سامنے ہوتی ہے۔اس طریق کار کی رو  سے رسول کے احکام اُس قوم کیلئے خاص ہوتے ہیں اور چونکہ ان احکام کی ادائیگی بجائے خویش مقصود بالذات نہیں ہوتی، اُنہیں آنے والی نسلوں پر من و عن نافذ نہیں کیا جاسکتا۔غالباً یہی وجہ تھی کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے ( جو اسلام کی عالمگیریت کی خاص بصیرت رکھتے تھے) اپنے فقہ کی تدوین میں حدیثوں سے کام نہیں لیا۔اُنہوں نے تدوینِ فقہ میں استحسان کااصول وضع کیا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ قانون وضع کرتے وقت اپنے زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھنا چاہئے۔اس سے احادیث کے متعلق ان کے نقطۂ نظر کی وضاحت ہوجاتی ہے۔یہ کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے تدوین فقہ میں احادیث سے اس لئے کام نہیں لیا کہ  اُن کے زمانے میں احادیث کے کوئی باضابطہ مجموعے مرتب نہیں ہوئے تھے۔ اول تو  یہ کہنا ہی درست نہیں  کہ اُن کے زمانے میں احادیث کے مجموعے موجود نہیں تھے۔امام مالک ؒ اور زہریؒ کے مجموعے اُن کی وفات سے قریب تیس سال پہلے مرتب ہوچکے تھے۔لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ مجموعے امام صاحب تک پہنچ نہیں پائے تھے یا اُن میں قانونی حیثیت کی احادیث موجود نہیں تھیں تو اگر امام صاحب اس کی ضرورت سمجھتے تو وہ احادیث کا اپنا مجموعہ مرتب  فرما سکتے تھے۔جیسا کہ  امام مالکؒ اور اُن کے بعد امام احمد بن حنبلؒ نے کیا تھا۔ان حالات کی روشنی میں مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ان احادیث کے متعلق ، جن کی حیثیت قانونی ہے، امام ابو حنیفہ ؒ کا یہ طرزِ عمل بالکل معقول اور مناسب تھا۔اور اگر آج کوئی وسیع النظر مقنن یہ کہتا ہے کہ احادیث ہمارے لئے من و عن شریعت کے احکام نہیں بن سکتیں تو اس کا طرزِ عمل امام ابو حنیفہؒ کے طرزِ عمل کے ہم آہنگ ہوگا جن کا شمار فقہ  اسلامی کے بلند ترین مقّنین میں ہوتا ہے۔(خطبات اقبال، صفحہ 163 اور 164)۔

اس مسلک کی تائید میں ان حضرات کے پاس قرآنی دلائل و بینات ہیں۔جن کا ملخص حسبِ ذیل ہے:

(1)اسلام میں اصلاً و اساساً اطاعت صرف قوانینِ الٰہیہ کی ہے جو کتاب اللہ کے اندر مذکور ہیں۔ سورۂ انعام میں ہے:
کیا میں(یعنی رسول اللہ ﷺ) اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم بنا لوں؟ حالانکہ اُس نے تمہاری طرف وہ کتاب نازل کر دی ہے جو ہر بات کو نکھار کر بیان کردیتی ہے6:115۔

 (2) جو اس کے مطابق فیصلے نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ سورہ مائدہ میں ہے: "جو اس کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے، تو یہی لوگ کافر ہیں5:44۔

(3) لیکن اللہ کی یہ اطاعت انفرادی طور پر نہیں ہوسکتی۔یہ نہیں کہ ہر شخص اپنے سامنے قرآن رکھ لے اور جس طرح اسکا  جی  چاہے اُسکی اطاعت کرتا رہے۔یہ اطاعت اجتماعی حیثیت سے ایک نظام کے تابع ہوگی جس کا مرکز اول رسول ﷺ کی ذات تھی لہٰذا اللہ کی اطاعت بواسطہ رسول ﷺ کے ہونی تھی۔سورۂ نساء میں ہے:

"جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی"4:80۔

 رسول کیلئے ضروری تھا کہ وہ ہر معاملہ کا فیصلہ قرآن کی رو سے کرتا۔سورۂ مائدہ میں ہے: فاحکم بینھم بمآ انزل اللہ ُ5:48۔

(4) لیکن کتاب اللہ کی صورت یہ ہے کہ اس میں (بجز چند مستثنیات) عام طور پر اصولی قوانین دے گئے ہیں۔ان قوانین کی جزئیات متعین نہیں کی گئیں۔یہ اصولی احکام مکمل اور غیر متبدل ہیں

6:116"تیرے رب کے قوانین صدق و عدل کے ساتھ مکمل ہوگئے۔ان میں تبدیلی کرنے والا کوئی نہیں"۔

(5)ان جزئیات کو غیر متعین اس لئے چھوڑا گیا کہ اگر انہیں بھی وحی کی رو سے متعین کردیا جاتا تو یہ بھی ہمیشہ کیلئے غیر متبدل ہوجاتیں۔ان کا غیر متبدل رکھنا منشائے الٰہیہ نہیں تھا۔چنانچہ سورۂ مائدہ میں ہے:

 "اے ایمان والو ! تم ایسی باتیں نہ پوچھا کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب تم ان کے متعلق ایسے وقت میں پوچھو گے جب قرآن نازل ہورہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی۔(بہر حال اب تک جو  کچھ تم کرچکے ہو) اللہ اس سے در گزر کرتا ہے۔اللہ غفور و حلیم ہے"5:101۔

 اس سے آگے ہے: "تم سے پہلے ایک قوم(بنی اسرائیل) نے اس قسم کی باتیں (کرید کرید کر ) پوچھی تھیں۔اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے (کچھ وقت کے بعد) اُن سے صاف انکار کر دیا(اور سرکشی برتنے لگے)5:102۔

 اس آیت کی تفسیر میں بنی اکرم ﷺ کی ایک حدیث نقل کی جاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ :

" اللہ تعالیٰ نے کچھ باتوں کو فرض قرار دیا ہے انہیں ضائع مت کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اُن کے پاس تک نہ پھٹکو۔کچھ حدود متعین کی ہیں اُن سے تجاوز مت کرو۔اور باقی چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے ان کے متعلق کرید مت کرو یاد رکھو جن چیزوں کے متعلق اللہ  نے خاموشی اختیار کی ہے اُس نے دانستہ ایسا کیا ہے۔یہ نہیں ہوا کہ اُس سے (معاذ اللہ )بھول ہوگئی ہے"۔

(6) اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں بیان کردہ غیر متبدل اصولوں کی روشنی میں ان جزئیات کو کس طرح مرتب کیا جائے جنہیں قرآن نے دانستہ غیر متعین چھوڑ دیا ہے۔ان کے متعلق نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا تھا:

"تم معاملات میں اُن (جماعتِ مومنین) سے مشورہ کرلیا کرو۔اس حکم کے تحت یہ غیر متعین جزئیات باہمی مشاورت سے طے پاتی تھیں۔ کتب روایات و سیر میں کئی واقعات مذکور ہیں جن سے ظاہر ہے کہ (حضورﷺ صحابہ رضوان اللہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔

(7) یہ سلسلہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں اسی طرح قائم رہا۔اب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ حضورﷺ کی وفات کے بعد اطاعتِ الٰہیہ کی کون سے صورت مقصود تھی۔ اس سلسلہ میں قرآن نے واضح طور پر بتا دیا کہ :

"محمدؐ بجز ایں نیست کہ اللہ کا ایک رسول ہے۔اُس سے پہلے بہت سے رسول گزرے ہیں۔سو اگر یہ وفات پاجائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم اس کے بعد پھر الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟"3:143۔
یعنی حضورﷺ کے بعد اطاعتِ الٰہیہ کے اسی سلسلہ کو بدستور قائم رکھنا مقصود تھا۔یہی وجہ تھی کہ حضورﷺ کی وفات کے بعدصحابہ رضوان اللہ عجمین نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اپنے میں سے ایک کو حضورﷺ کا جانشین (خلیفہ) منتخب کرلیا۔جس طرح رسول اللہﷺ(اس سے پہلے اطاعت کراتے تھے)، اب خلیفۃ الرسولﷺ نے اسی اللہ کی اطاعت کرانا شروع کردی۔جس طرح اس سے پہلے ، رسول کی اطاعت سے عملاً اللہ کی اطاعت ہوتی تھی۔ اسی طرح اب خلیفۃ الرسولﷺ کے فیصلوں کی اطاعت ، اللہ اور رسول کی اطاعت تھی۔ اسی کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ :"تم  پر میرے طریقے اور میرے علماء راشدین المہدین کے طریقے کی پیروی لازمی ہے"(مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)۔جس طرح رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ :"ان (مومنین) سے معاملات میں مشورہ کیا کرو"3:159، اسی طرح خلافت کے متعلق تھا کہ :"ان کے معاملات باہمی مشورہ سے طے پائیں گے"42:38۔ اسی کو قرآن نے وہ سبیل المومنین قرار دیا ہے4:115۔
جسے چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آپکا علامہ اقبالؒ اور علامہ مولاناسید ابولاعلیٰ مودودیؒ کے متعلق کیا خیال ہے۔ کیا یہ منکرِ حدیث تھے؟
```````````````````````````````
سنت کے ماخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع
آپ اگر واقعی قرآن کو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظ میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا کی طرف سے مقر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، رہنما، شارحِ کلام اللہ، شارع (Law Giver)، قاضی اور حاکم و فرمانروا قرار دے رہا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصبِ رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور سے لیکر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورۂ بالا تمام حیثیات میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا ماخذ قانون (Source of Law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائی برخود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ تمام دنیا کے مسلمان اور ہر زمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیک مطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضور ﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔ اور اس کے بعد آپ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کے ہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آگئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نے سمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا؟

2۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی اختیارات

دوسرا نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:
"لیکن اس بات پر آپ سے اتفاق نہیں ہے کہ 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جوکچھ کیا تھا، یہ وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے۔ بے شک حضور ﷺ نے حاکم اعلیٰ کے قانون کے مطابق معاشرہ کی تشکیل تو فرمائی لیکن یہ کہ کتاب اللہ کا قانون (نعوذباللہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضور ﷺ نے عملاً کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی، میرے لیے ناقابل فہم ہے"۔

اسی سلسلے میں آگے چل کر آپ پھر فرماتے ہیں:
"نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بنا پر کتاب اللہ کے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں۔ کم از کم میرے لیے تو یہ تصور بھی جسم میں کپکپی پیدا کر دیتا ہے۔ کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی پیش (مثال ) فرمائیں گے جس سے معلوم ہوکہ قرآن کا قانون نامکمل ہے"۔

ان فقروں میں جوکچھ آپ نے فرمایا ہے، یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو علم قانون کے ایک مسلم قاعدے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ کو لاحق ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ قاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار اعلیٰ جس کو حاصل ہو وہ اگر ایک مجمل حکم دے کر یا ایک عمل کا حکم دے کر، یا ایک اصول طے کرکے اپنے ماتحت کسی شخص یا ادارے کو اس کی تفصیلات کے بارے میں قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے اختیارات تفویض کردے تو اس کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط قانون سے الگ کوئی چز نہیں ہوتے بلکہ اسی قانون کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ قانون ساز کا اپنا منشا یہ ہوتا ہے کہ جس عمل کا حکم بھی میں نے دیا ہے، ذیلی قواعد  بنا کر اس پر عمل درآمد کا طریقہ مقرر کر دیا جاۓ، جو اصول اس نے طے کیا ہے اس کی مطابق مفصل قوانین بنائے جائیں اور جو مجمل ہدایت اس نے دی ہے اس کے منشا کو تفصیلی شکل میں واضح کردیا جائے۔ اسی غرض کے لیے وہ خود اپنے ماتحت شخص یا اشخاص یا اداروں کو قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا مجاز کرتا ہے۔یہ ذیلی قواعد بلاشبہ اصل ابتدائی قانون کے ساتھ مل کر اس کی تشکیل و تکمیل کرتے ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قانون ساز نے غلطی سے ناقص قانون بنایا تھا اور کسی دوسرے نے آکر اس کا نقص دور کیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قانون ساز نے اپنے قانون کا بنیادی حصہ خود بیان کیا اور تفصیلی حصہ اپنے مقرر کیے ہوۓ ایک شخص یا ادارے کے ذریعے سے مرتب کرا دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی کام کی نوعیت

اللہ تعالیٰ نے اپنی قانون سازی میں یہی قاعدہ استعمال فرمایا ہے۔ اس نے قرآن میں مجمل احکام اور ہدایات دے کر، یا کچھ اصول بیان کرکے، یا اپنی پسندو ناپسند کا اظہار کرکے یہ کام اپنے رسول ﷺ کے سپرد کیا کہ وہ نہ صرف لفظی طور پر اس قانون کی تفصیلی شکل مرتب کریں بلکہ عملاً اسے برت کر اور اس کے مطابق کام کر کے بھی دکھادیں۔ یہ تفویضِ اختیارات کا فرمان خود قانون کے متن (یعنی قرآن مجید) میں موجود ہے۔
"اور (اے نبی) ہم نے یہ ذکر تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کردو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔(النمل:44)

اس صریح فرمانِ تفویض کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قولی اور عملی بیان، قرآن کے قانون سے الگ کوئی چیز ہے۔ یہ درحقیقت قرآن ہی کی رو سے اس کے قانون کا ایک حصہ ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کے معنی خود قرآن کو اور خدا کے پروانۂ تفویض جو چیلنج کرنے کے ہیں۔

اس تشریعی کام کی چند مثالیں

یہ اگرچہ آپ کے نکتے کا پورا جواب ہے، لیکن میں مزید تفہیم کی خاطر چند مثالیں دیتا ہوں جن سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و بیان کے درمیان کس قسم کا تعلق ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ واللہ یحب المطھرین (التوبہ:10) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کی کہ اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ وثیابک فطھر (المدثر:4) حضور ﷺ نے اس منشا پر عمل درآمد کے لیے استنجا اور طہارتِ جسم و لباس کے متعلق مفصل ہدایات دیں اور ان پر خود عمل کرکے بتایا۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر تم کو جنابت لاحق ہوگئی تو پاک ہوۓبغیر نماز نہ پڑھو (النساء:43، المائدہ:6)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جنابت سے کیا مراد ہے۔ اس کا اطلاق کن حالتوں پر ہوتا ہے اور کن حالتوں پر نہیں ہوتا اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنا منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھولو، سر پر مسح کرو اور پاؤں دھوؤ، یا ان پر مسح کرو (المائدہ:6) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ منہ دھونے کے حکم میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں اور سر کے ساتھ ان پر بھی مسح کرنا چاہئیے۔ پاؤں میں موزے ہوں تو مسح کیا جائے اور موزے نہ ہوں تو ان کو دھونا چاہیے۔ اس کے ساتھ آپ نے تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وضو کن حالات میں ٹوٹ جاتا ہے اور کن حالات میں باقی رہتا ہے۔ 

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ رکھنے والا رات کو اس وقت تک کھا پی سکتا ہے جب تک فجر کے وقت کالا تاگا سفید تاگے سے ممیز نہ ہوجائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس سے مراد تاریکیِٔ شب کے مقابلہ میں سپید ۂ صبح کا نمایاں ہونا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اشیاء کے حرام اور بعض کے حلال ہونے کی تصریح کرنے کے بعد باقی اشیاء کے متعلق یہ عام ہدایت فرمائی کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کی گئی ہیں (المائدہ:4) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے اس کی تفصیل بتائی کہ پاک چیزیں کیا ہیں جنہیں ہم کھاسکتے ہیں اور ناپاک چیزیں کون سی ہیں جن سے ہم کو بچنا چاہیے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہو اور ایک لڑکی ہوتو وہ نصف ترکہ پائے گی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو ترکے کا دوتہائی حصہ ملے گا (النساء:11)۔ اس میں یہ بات واضح نہ تھی کہ اگر دولڑکیاں ہوں تو وہ کتنا حصہ پائیں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے توضیح فرمائی کہ دو لڑکیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دو سے زائد لڑکیوں کا مقرر کیا گیا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا (النساء:23)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔

قرآن مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ دو دو، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کرلیں (النساء:3) یہ الفاظ اس معاملہ میں قطعاً واضح نہیں ہیں کہ ایک مرد بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ حکم کے اس منشاء کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی اور جن لوگوں کے نکاح میں چار سے زائد بیویاں تھیں ان کو آپ نے حکم دیا کہ زائد بیویوں کو طلاق دے دیں۔

قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتا ہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے آیا ہر مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیے یا عمر میں ایک بار کافی ہے، یا ایک سے زیادہ مرتبہ جانا چاہیے (آل عمران:97)۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی تشریح ہے جس سے ہم کو معلوم ہوا کہ عمر میں صرف ایک مرتبہ حج کرکے آدمی فریضۂ حج سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔

قرآن سونے اور چاندی کے جمع کرنے پر سخت وعید فرماتا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت 34 کے الفاظ ملاحظہ فرمالیجئے۔ اس کے عموم میں اتنی گنجائش بھی نظر نہیں آتی کہ آپ روز مرہ کے خرچ سے زائد پیسہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں، یا آپ کے گھر کی خواتین کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تار بھی زیور کے طور پر رہ سکے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں جنہوں نے بتایا کہ سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے اور بقدر نصاب یا اس سے زیادہ سونا چاندی رکھنے والا آدمی اگر اس پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کردے تو وہ قرآن مجید کی اس وعید کا مستحق نہیں رہتا۔

ان چند مثالوں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ تشریعی اختیارات کو استعمال کرکے قرآن کے احکام و ہدایات اور اشارات و مضمرات کی کس طرح شرح و تفسیر فرمائی ہے۔ یہ چیز چونکہ خود قرآن میں دئیے ہوئے فرمانِ تفویض پر مبنی تھی اس لیے یہ قرآن سے الگ کوئی مستقل بالذات نہیں ہے بلکہ قرآن کے قانون ہی کا ایک حصہ ہے۔

***
Source: http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/Sunnat.html
احادیث دراصل اقوال منسوب الرسول ہیں اور کوئی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا حضورنے بھی یہی الفاظ کہے تھےکے ہیں

اگر واقعی حضور نے فرمادیا ہے تو کس میں جرات ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں نہیں مانتا

اگر کوئی یہ کہے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا

مسئلہ یہ ہے کہ

کیا واقعی حضور نے ایسا کہا ہے؟

کیا راوی بھول نہیں سکتا

کیا بھول جانے کے حوالے سے سجدہ سہو کے واقعات حضور صلم کے دور میں ملتے ہیں
اس کا مطلب ہے بھول جانا عام انسانی رویہ ہے 
جو لوگ حضور سے منسوب احادیث منسوب بھی کرتے ہیں وہ بھی یقین سے نہیں کہتے کہ یہ حضور کے الفاظ ہیں
اس کے علاوہ راوی پر بحث ہوتی ہے حدیث کی درجہ بندی ہوتی ہے 
حدیث کے معیار کا سب سے اہم معیار یہ ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کے منافی نہ ہو جیسا کہ مسلم کی حدیث ہے
ایسی احادیث سر آنکھوں پر۔
احادیث کو پرکھنے کے لیے اسی لیے اسماٴ الرجال کا فن ایجاد کیا گیا
اسی طرح سنت کے مفہوم میں بہت غلط فہمی ہے
آپ کے ہر عمل، کام، خوردونوش، لباس، معاشرت اور روز مرہ کے امور کو سنت قرار ے کر اس پر عمل پیرا ہونا نہ يه ممکن ہے اور نہ قرآن یا رسول اللہ نے ہم سے یہ مطالبہ کیا ہے
وحی کو تو حضور باقاعدگی سے لکھواتے تھے اور کاتبین وحی بھی موجود تھے
اور وہ وحی قرآن کی صورت میں سب کے لیے تھی اور آج بھی ہے
جبکہ
اقوال رسول نہ لکھواۓ جاتے تھے نہ ہی کاتبین حدیث کا کوئی وجود تھا اگر کسی نے ازخود ہی کوئی بات آگے روایت کردی ہو یا نوٹ کرلی ہو تو وہ سب کے لیے نہ تو ہمہ گیر ہو سکتی ہے اور نہ ایسا کوئی اہتمام تھا اور اے دور میں سب لوگوں تک آپ کے تمام اقوال یا احادیث سے آگاہی کیسے ممکن ہے 


احادیث کا کو ئ ایسا مجموعہ نہیں جس پر سب متفق ھوں

امام ابوحنیفہ نے فقہی مسائل کے حدیث کا سھارا نہیں لیا اور وہ صرف اٹھارہ حدیثوں کےقائل تھے۔

ہمیں وضعی حدیثوں اور ضعیف حدیثوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے یہ نہیں کہ مجموعہ احادیث سے کوئی بھی پڑھ لی اور بیان کردی

احادیث میں متضاد اور ایسی ایسی روایات شامل کردی گئیں کہ بیان نہیں کی جاسکتیں

اس لیے ھم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حضور سے غلط طور پر منسوب ہیں  حضور ایسا نہں کہہ سکتے

ایک طرف سنی بریلوی احادیث سے ہی ایصال ثواب، حاظر ناظر، حضور کا نور ہونا، شفاعت، زیارت قبور اور حاجت روی، پیری مریدی اور بہت سے دوسرے مسائل ثابت کرتے ہیں مگر اہل حدیث اور دیوبندی بھی احادیث سے ان کا رد کرتے ہیں
احادیث کی بنیاد پر ہی ہر فرقہ اپنے آپ کو سچا اور جنتی (ناجی ) قرار دیتا ہے جبکہ دوسروں کو جھوٹا ثابت کرتا ہے
خارجی، بدعتی، گستاخ رسول، کافر، مرتد اور نجانے کیا کیا قرار نہیں دیتا
یہی شیعہ سنی اختلاف میں ہے
لہذا قرآن سپریم ہے اور احادیث قرآن کے مفہوم کے مطابق ہوں وە رسول پاک نے فرمایا ہوگا اور حضور سے منسوب روایات قرآن حکیم کی واضع تعلیمات کےمنافی ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضور نے ایسا نہیں فرمایا ہوگا
اور روایت کرنے والے سے بھول چوک ہوگئی ہو گی


علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے


حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایات میں کھو گئی
احادیث پیش کرنا بہت ہی نازک کام ہے لہذا حدیث پیش کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لیں

بہت سی من گھڑت روایات احادیث نہیں ہیں انہیں آگے نہ پھیلائیں

جیسا کہ صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 109 میں ہے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے جس نے حضور کے ساتھ جھوٹ منسوب کیا.

یہ نہیں کہ مجموعہ احادیث سے کوئی بھی پڑھ لی اور بیان کردی

کتب احادیث میں متضاد اور ایسی ایسی روایات شامل ہو گئیں ہیں جن کے بارے میں ھم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حضور سے غلط طور پر منسوب ہیں  حضور ایسا نہیں کہہ سکتے

حدیث پیش کرتے وقت مکمل احتیاط اور اطمینان کرلیں، روایت کی پوری تفصیل اور راویوں کے نام مکمل طور پر بیان کرنے چاہیں 

بہتر یہی ایسی احادیث پیش کریں جن کی روایت حضور پاک تک بلا شک و شبہ پہنچے یعنی مرفوع حدیث یا کم از کم موقوف حدیث ہو جس کی ورایت صحابہ اکرام تک پہنچے- متفق علیہ، صحیح اور حدیث قدسی پیش کرنا زیادہ بہتر ہے-
مسلم کی حدیث ہے حضور نے فرمایا ہے کہ جب بھی میری کوئی حدیث پیش کی جاۓ اسے قرآن پر پرکھ لیا جاۓ اگر وہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہو تو ٹھیک ہے وگرنہ رہنے دیں- یہ بہت اہم اصول ہے-
چونکہ حدیث کا علم اور پیش کرنا نہایت نازک اور احتیاط کا کام ہے اس لیے عام عوام کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ کام ان علماء پر چھوڑ دینا چاہیے جو علم حدیث پر دسترس رکھتے ہیں
البتہ قرآن حکیم کی آیات حوالے کےساتھ پیش کی جائیں تو یہ کار خیر ہوگا-


قرآن کے علاوہ کوئی ایسا مجموعہ نہیں جو شک وشبہ سے بالاتر ھو

قرآن ہی حجت اور حرف آخر ہے اور جس پر سب متفق ہیں

قرآن حکیم میں تیرہ مقامات پر یہ حضور کی زبان مبارک سے اعلان ہے کہ میں قرآن کی  پیروی کرتا ھوں

لہذا جب ہم بھی قرآن کی پیروی کریں گے تو حضور کی خود بخود پیروی ھو جائے گی

حضرت عمر نے حضور کے آخری ایام میں یہی کہا تھا

حسب نا کتاب اللہ
کہ ھمارے لیے کتاب کافی ہے
ہمارے لیے سپریم قرآن ہے اس میں غوروفکر ضروری ہے 


ہمیں چاہیے کہ

اپنے ذہن میں کسی غیر قرآنی تصور و خیال یا کسی بھی ایسے نظریہ جس سے قرآن نے منع کیا ہے اور اسے غلط کہا ہو مکمل طور پر بچیں


قرآن کو سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور اس کی نشر و اشاعت کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دیں

دکھی انسانیت کو سکھ پہنچانےکے لیے مصروف عمل رہیں
Allah knows the best
Read: Sunnah ki Ayeeni Haseyyat, Book by Syed Abulala Modudi.pdf 

جناب سٹڈی سرکل صاحب، آپکی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں کہ شیعہ اس قرآن میں اول صدی سے اختلاف رکهتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اصل قرآن امام غائب کے پاس عراق کے غار میں ہے.
آپ نے کہا کہ تمام فرقے مانتے ہوں. ذرا بتائیے کہ جو لوگ صحیح بخاری کو صحیح مانتے ہیں ان کے علاوہ کون ہے جو قرآن کو شک و شبہ سے بالا تر مانتا ہے؟ اول صدی سے دسویں صدی تک ایک مثال تو دیں.
دراصل آپ پرویزیوں کے اندهے مقلد ہیں جو کہ پرویزی لٹریچر سے متاثر ہو چکے ہیں. مسلمانوں کی آدهی بات مانتے ہیں، کہ قرآن صحیح ہے، باقی آدهی کا بغیر وجہ انکار کرتے ہیں، کہ صحیح بخاری و مسلم قرآن کے بعد صحیح ترین کتابیں ہیں.
ایک بات آپکو سو لوگوں نے بتائی ایک پانچ نے بتائی، اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ پانچ والی لازما غلط ہو گی؟کیا ہر وہ بات جس پر آپ کو یقین ہے وہ ایک جتنے راویوں نے بتائی ہے؟ اور ہر وہ بات جس پر آپ کو یقین ہے اس پر سبهی متفق ہیں؟
عقل کو استعمال کرنا چاہئے. اگر کوئی حدیث جس پر مسلمان عمل کر رہے ہیں اور وہ قرآن کے مخالف ہے تو پیش کریں. آدهے جملے، بغیر سیاق کی تشریح اور بلاوجہ کی غلط بیانی کا کچه فائدہ نہیں سوائے آخرت کی تباہی کے.
On Mar 12, 2014 9:25 PM, "Study circle" <s.studycircle@gmail.com> wrote:

سوال یہ ہے کہ
اسوہ حسنہ اور سنت کی کیا کوئی تعبیر یا کوئی مجموعہ تحریری صورت میں موجود ہے جو شک و شبہ سے بالا تر ہو، مستند ہو اور جس پر امت مسلمہ متفق ہو
جیسے امت قرآن حکیم پر متفق ہے 
کیا اسوہ حسنہ اور سنت رسول کی ایک متفقہ علیہ تعبیر موجود ہے جسے تمام فرقے اور مسالک سب بیک وقت مانتے ہوں 
اگر ہے تو اس كا كيا نام اور کہاں ہے  
On 7 mar 2014, at 08:30, Zafar Iqbal <zafariqbaldr@gmail.com> wrote:
سلام
تمام احادیث کی حیثیت ایک جیسی نہیں۔یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ چونکہ یہ روایات ہیں۔ اور ان کی صحت کے حوالہ سے لوگوں نے انتہائی عرق ریزی کی ہے جس کی مثال نہین ملتی۔اس عرق ریزی اور کھنگالنے کے نتیجے میں احادیث کی صحت کے حوالہ سے درجہ بندی کی گئی ہے۔درج بالا مختصر کمنٹس اسی تناظر میں ہیں اور وسیع ذخیرے میں سے چنیدہ الفاظ ر مشتمل ہیں۔ممکن ہے ان الطفاظ سے کوئی اس نتیجے پر پہنچے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ نماز کے قریب مت جاؤ۔۔۔۔( بغیر اس اضافہ کے کہ ۔۔۔ جب تم نشے کی حالت میں ہو  ) 
سید ابوالاعلی ؒ  مودودی کے حدیث اور سنت کے حوالہ سے نطریہ کو سمجھنے کے لئے درج بالا سطور کی بجائے ان کی مفصل کتاب "سنت کی آئینی حیثیت" مددگار ہوگی۔
یہ کتاب دراصل ایک تحریری مکالمہ  پر مشتمل ہے جوتاریخی اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔
امید ہے معلومات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے والے خواتین وحضرات کے لئے یہ مفید ثابت ہو گی۔
Read: Sunnah ki Ayeeni Haseyyat, Book by Syed Abulala Modudi.pdf 
ظفر اقبال
2014-03-07 3:00 GMT+03:00 iqbal sheikh <iqbalsheikh@hotmail.com>
This discussion was received from following:
from: iqbal sheikh iqbalsheikh@hotmail.com
reply-to: iqbalsheikh@hotmail.com
to: "global-right-path@googlegroups.com" <global-right-path@googlegroups.com>
cc: xxxxxx xxxxxxx  xxxxxxxxxxxxxxxxxxxxxxx  xxxxxxxxxxxxxxxxx  xxxxxxxxxx   xxxxxxxxxxxxxxxxx
date: Fri, Mar 7, 2014 at 5:00 AM
subject: {GRP} کیاعلامہ اقبالؒ اور علامہ مولاناسید ابولاعلیٰ مودودیؒ منکرِ حدیث تھے؟
mailing list: global-right-path.googlegroups.com Filter messages from this mailing list
mailed-by: googlegroups.com
signed-by: googlegroups.com
http://global-right-path.net16.net/
Related:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits